Sunday, August 21, 2011

ڈیری فارمنگ اور وسائل کی کمی


پاکستان ڈیری فارمنگ کے لحاظ سے دنیا میں ایک اہم مقام رکھتا ہے، وطن عزیز پاکستان میں ڈیری فارمنگ  میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔۔دودھ کی بہترین پیداوار دینے والے ممالک میں ہندوستان، چین اور امریکہ کے بعد چوتھےنمبر پر پاکستان کا نام شمار کیا جاتا ہے۔پاکستان میں جن جانوروں سے دودھ حاصل کیا جاتا ہے ان میں، بھینسیں، بھیڑیں، بکریاں اور اونٹ شامل ہیں۔ قدرت نے ہمارے ملک کو اعلیٰ نسل کی بھینسوں اور گائیوں کی دولت سے نوازا ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم سبز انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔ ملک میں مویشیوں کی تعداد تقریباً پانچ کروڑ ہے جن سے سالانہ دودھ کی پیداوار 45 بلین لیٹر لی جاتی ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بھینسوں کی تعداد دو کروڑ تریسٹھ لاکھ سے بڑھ کر دو کروڑ چوراسی لاکھ ہوگئی ہے اور بکریوں کی تعداد پانچ کروڑ چھپن لاکھ سے بڑھ کر چھ کروڑ انیس لاکھ جبکہ بھیڑوں کی تعداد دو کروڑ انچاس لاکھ کے مقابلے میں دو کروڑ پچپن لاکھ ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ جی ڈی پی میں اس شعبے کا حصہ 11 فیصد ہے۔ عام مشاہدات کے مطابق ہمارے دودھیلے جانوروں (گائے، بھینس) کی اکثریت اوسطاً 5 سے 6 لیٹر دودھ یومیہ فی جانور پیدا کرتی ہے، جو کہ انتہائی کم اور غیر نفع بخش ہے۔
موجودہ صورتحال کے مطابق ہمارے مویشی پال زمیندار وسائل کی کمی اور افزائش حیوانات کے جدید علوم

Sunday, August 14, 2011

مرکری کے فوائد و نقصانات۔۔۔۔۔۔ حصہ آخر


مرکری کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، متعدد اشیاءخاص کر تھرما میٹر میں اس کا استعمال پوری دنیا میں عام ہے۔ مرکری کا جیسے جیسے استعمال بڑھتا جا رہا ہے اس کے نقصانات کا بھی اندازہ ہو رہا ہے۔ مرکری انسانی زندگی کے لئے سخت نقصان دہ ہے۔ اس کے نقصان دہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ پانی میں حل نہیں ہوتا۔ مرکری کو مٹی میں دبا دیا جائے اور پھر نکالا جائے تو یہ ویسا ہی ہو گا جیسے اس کو رکھا گیا یعنی اس پر کسی بھی قسم کا کوئی فرق نہیں پڑتا جیسا کہ لوہا یا دوسری چیزیں مٹی میں گل سڑ جاتی ہیں۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مرکری کا دواﺅں میں استعمال انسانی جان کے لئے کتنا تباہ کن ہے۔

Monday, August 8, 2011

مرکری کے فوائد و نقصانات۔۔۔۔۔۔ حصہ اول

مرکری ایک کیمیائی عنصر ہے جس کی علامت ایچ جی اورجوہری نمبر 80 ہے۔ اسے پارے کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ مرکری درجہ حرارت اور دبائو کے لئے معیاری حالات میں بھی مائع ہے۔ مرکری کے علاوہ برومین دھات منفی اڑتیس اعشاریہ تریاسی سینٹی گریڈ اور تین سو چھپن اعشاریہ تہتر سینٹی گریڈ پر ان حالات میں مائع رہتی ہے۔مرکری زیادہ تر مرکیورک سلفائیڈ کے طور پر دنیا بھر کے ذخائر میں پایا جاتا ہے۔ سندور زیادہ تر مرکیوریک سلفائیڈ سے کمی کی جانب سے حاصل کیا جاتا ہے۔ سپین اور اٹلی مرکری یا پارے کے روایتی ذرائع ہیں۔ اسپین المیڈین اور اٹلی اڈریا کی مرکری کی کانوں میں قدیم دور سے کام کر رہے ہیں، اسپین کی المیڈین 1850ء اور اٹلی کی اڈریا کی کانیں 1853ء میں مرکری کی طلب کے باعث کھودی گئی تھیں۔ کچھ مرکری چائنہ ، جنوبی پیرو اور دیگر مقامات سے حاصل کیا جاتا ہے۔دنیا بھر میں مرکری کا استعمال تھرمامیٹرز، بیرومیٹرز، سپیگمو مینو میٹرز، بجلی کے بٹن اور دیگرسائنسی آلات میں کیا جاتا ہے۔ مرکری کو روشنی کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ آج کل استعمال ہونے والے بلبز اور ٹیوب لائٹس میں مرکری استعمال کی جاتی ہے۔

Sunday, July 31, 2011

زراعت میں بینکاری کی اہمیت

زراعت پاکستان کا ایک اہم شعبہ ہے اور اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کی برسرروزگار افرادی قوت میں سے تقریباً 45 فیصد افراد کاروزگار اسی شعبے سے وابستہ ہے اور ملکی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ 22 فیصد ہے۔پاکستان سے حاصل ہونے والی فصلوں میں کپاس، گنا، گندم اور چاول وہ فصلیں ہیں جن کی بیرونی منڈیوں میں کثیر فروخت ہوتی ہے اور یہ پاکستان کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور دنیا کی مشہور فصلیں ہیں۔ پاکستان کا باسمتی چاول ذائقے اور صحت کے اعتبار سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ صنعتی ترقی کی جانب بتدریج منتقلی کے باوجود زراعت اب بھی ملکی معیشت کاسب سے بڑا شعبہ ہے جو ملک کے سماجی و اقتصادی ڈھانچے پرگہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ متعدد صنعتوں کی پیداوار کا دارومدار بھی زراعت پر ہے مثلاً کپاس کی بہتر پیداوار ہو گی تو کوٹن انڈسٹری کو خام مال دستیاب ہوگا۔ ہمارے حکمرانوں نے قومی معیشت کی بنیاد زرعی شعبے کو بھی بری طرح نظر انداز کیا حالانکہ چھوٹے کسانوں کو دوست پالیسیوں، ماحول دوست زراعت، پانی چوری کے خاتمے، وسائل کی منصفانہ تقسیم، حقیقی کسان منڈیوں کے قیام، بلا امتیاز زرعی ترقی اور پیداوار میں اضافے کے لئے آسان شرائط پر قرضے دے کر قومی معیشت اور زرعی پیداوار سے متعلق صنعتوں کو زبردست فروغ دیا جا سکتا ہے۔

Monday, July 25, 2011

فش فارمنگ، غذائی ضرورت اور کاروبار

پاکستان کے پاس بیش بہا قدرتی خزانے ہیں، جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان اپنی تمام پریشانیوں کو دور کر سکتا ہے۔ ان خزانوں میں سے ایک سندھ اور بلوچستان سے منسلک 814 کلو میٹر لمبی ساحلی پٹی ہے، جو فش فارمنگ کے لحاظ سے قدرت کا بہترین تحفہ ہے اور سمندری خوراک کے حوالے سے نہ صرف ملکی بلکہ برآمداتی ضروریات کو پورا کرنے کی بھی بھرپور صلاحیت کی حامل ہے۔ ماہی گیری کو اس وقت دنیا میں ایک اہم صنعت کا درجہ حاصل ہے۔ دنیا میں 150 ملین افراد ماہی گیری کی صنعت سے وابستہ ہیں اور ایک غیر حتمی اندازے کے مطابق ایسے خاندان جن کا گزارہ اسی صنعت سے ہے کی مجموعی تعداد 45 کروڑ ہے۔ پاکستان میں پائی جانے والی مچھلی اور سمندری غذا کی بین الاقوامی مانگ کا اندازہ حال ہی میں پاکستان کے شہر کراچی کے ایکسپو سینٹر میں ہونے والی نمائش سے لگایاجاسکتا ہے۔

Sunday, July 17, 2011

تھری جی: ٹیلی کوم سروسز کی دنیامیں نئی ٹیکنولوجی

دنیا جدیدیت کی طرف سفر کر رہی ہے اور روز بروز نئی نئی ایجادات ہو رہی ہیں۔ انسان نے اپنی آسانی کے لئے کروڑوں ذرائع تلاش کر لئے ہیں۔ انسان اب زمین سے خلاءکی طرف کامیابی سے سفر کر رہا ہے۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون کی بدولت روابط آسان ہو گئے ہیں، لوگ ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے پوری دنیا سے بات کر سکتے ہیں۔ انفو کمیونیکیشن سروسز کی دنیا میں ٹیکنولوجی نے انقلاب برپا کر دیا ہے۔

Monday, July 11, 2011

جدید ٹیکنولوجی اور سر سبز انقلاب

زراعت پاکستان کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لئے زرعی شعبے کی ترقی ملک کی ترقی ہے۔ دنیا جدیدیت کی طرف سفر کر رہی ہے اور ہم اب تک زراعت کے روایتی طریقوں کو اپنائے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے بیشتر کسان ابھی تک ہل چلانے کے لئے بیلوں کا استعمال کر رہے ہیں جبکہ دنیا کے دیگر ممالک جدید ٹریکٹروں کا استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کی فصلوں کی پیداوار ایک حد تک بڑھنے کے بعد رک گئی ہے مگر افسوس اس بات پرہے اس بات پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔
حکومتی سطح پر زبانی کلامی زراعت کی ترقی کی باتیں ہورہی ہیں مگر اس معاملے میں سنجیدگی کا فقدان ہے۔ ملک میں جدید ٹیکنولوجی استعمال کرنے کے مشورے دیئے جاتے ہیں لیکن ٹیکس بھی لگا دیا جاتا ہے۔ کسان پہلے ہی غریب ہیں مہنگی ٹیکنولوجی کیسے خریدینگے؟ ان حالات میں کسانوں سے زیادہ پیداوار کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ ہمیں کسانوں کی خوشی کا خیال رکھتے ہوئے کسانوں کو سستی ٹیکنولوجی مہیا کرنی چاہیئے تاکہ فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔

Monday, July 4, 2011

پیسچرائزاور غیر پیسچرائزڈ دودھ کا استعمال

ہماری زندگی میں کچھ چیزیںبہت خاص ہوتی ہیں اور ان کا متبادل بھی کوئی نہیں ہوتا، دودھ بھی انہی چیزوں میںسے ایک ہے۔ ہم سب اپنی زندگی کے سفر کا آغاز دودھ ہی سے کرتے ہیں۔ بچپنے سے لے کر بڑھاپے تک ہرانسان دودھ اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کا استعمال کرتا ہے۔ دودھ میں انسان کو توانائی فراہم کرنے والے اجزاءمثلاًوٹامن اے ، بی اور دیگر پائے جاتے ہیں۔ ملکی جی ڈی پی میں دودھ اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کا حصہ گیارہ فیصد ہے۔ اسی لئے دودھ اور اس سے تیار کردہ مصنوعات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان دنیا میں دودھ کی پیداوار میں چوتھے نمبر پرشمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان سے اوپر دودھ کی پیداوار والے ممالک میں بالترتیب ہندوستان، چین اور امریکہ

Thursday, June 30, 2011

کوڑاکرکٹ، توانائی کے حصول کا ذریعہ

پاکستان گزشتہ کئی سال سے توانائی کے بحران میں مبتلا ہے، ہر شخص اسی سوچ میںگم ہے کہ توانائی کے بحران کو کیسے ختم کیا جائے۔ کہیں سولر پینل کا استعمال کیا جا رہا ہے تو کہیں بائیو گیس سے بجلی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مگر حکومت ہے جو کہیں بھی سنجیدگی اختیار کرتی نظر ہی نہیں آرہی ہے۔ بجلی کے بحران کو ختم کرنے اور لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لئے حکومت کی طرف سے نئے پروجیکٹس تو شروع کئے گئے ہیںمگر ان کی مدت بہت لمبی ہے، فوری طور پر لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لئے کوئی خاص انتظامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔
دنیا میں متعدد ممالک کوڑے کے ذریعے بجلی اور گیس حاصل کر رہے ہیں، ان میں جاپان، چین، امریکہ، برطانیہ، اسپین، ترکی، نیروبی، سویڈن، یونان اور بھارت کے علاوہ دیگر ممالک شامل ہیں۔ جاپان، بھارت اور چین نے کوڑے سے توانائی حاسل کرنے کے متعدد منصوبوں پر کام شروع کر رکھا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کوڑے کی اہمیت سے واقف ہیںاور اس سے توانائی حاصل کر رہے ہیں پھر ہم کیوں اس اہم چیز پر توجہ نہیں دیتے؟ ہم ملک میں روزآنہ اکھٹا ہونے والے ہزاروں ٹن کوڑے سے بجلی پیدا کر سکتے ہیں ، یوں بجلی کی کافی ضروریات بھی پوری ہو جائیں گی اور ماحول بھی صاف ستھرا ہو جائے گا۔

آئی ٹی سکیورٹی ملکی خودمختاری کےلئے ضروری

ترقی کی اس دوڑ میں انفورمیشن ٹیکنولوجی نے زندگی میں خاص اہمیت حاصل کرلی ہے۔ گزشتہ ادوار میں تمام خفیہ معلومات کو کاغذی شکل میں درازوں اور الماریوں میں رکھا جاتا تھا مگر اب دور بدل چکا ہے اوراس دور میں تمام خفیہ دستاویزات اور معلومات کو الیکٹرونک دستاویز بنا کر کمپیوٹر یا پھر ای میلز میں رکھا جاتا ہے۔ان خفیہ معلومات کو حاصل کرنے کے لئے ہیکرز اپنے ہیکنگ آئی ڈی کا استعمال کرتے ہیں، اس لنک کو کھولتے ہی تمام معلومات ہیکر کو مل جاتی ہیں اور بعض اوقات یہ ہیکر ویب سائٹس پر قابض بھی ہو جاتے ہیں۔ ایسے جرائم پیشہ افراد عام یا خاص لوگوں کی خفیہ دستاویزات کے ذریعے ان کی جائیداد اور دولت پر بھی قبضہ کرلیتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر جان جرائم کو سائبر کرائمز کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے، ان سائبر کرائمز کے باعث روزانہ لاکھوں افراد اپنی قیمتی معلومات سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

Sunday, June 12, 2011

رابطوں کا نیا جہاں

تحریر: سید محمد عابد

سوشل میڈیا سے مراد وہ میڈیا ہے جو انٹرنیٹ ایپلیکیشنز اور موبائل ٹیکنولوجی کے ذریعے معلومات اور خبروں کا پھیلاﺅ کرتا ہے۔ گزشتہ دور میں خبروں اور دیگر معلومات کے لئے ٹی وی اور ریڈیو کا سہارا لینا پڑتا تھا مگر اب نئی ٹیکنولوجی کے ذریعے خبروں کا تبادلہ باآسانی انٹرنیٹ بلوگز، سماجی روابط کی ویب سائٹس اور موبائل ایس ایم ایس کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔

Thursday, June 9, 2011

مائیکروہائیڈل وقت کی ضرورت

  تحریر: سید محمد عابد
پاکستان بجلی کی کمی کا شکار ہے جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ عام ہے۔ ملک کے تقریباً تمام علاقوں میں ہی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ ہر مہینے دو مہینے بعد حکومتی بیان سننے میں آتا ہے کہ رواں سال کے فلاں مہینے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کر دی جائے گی اور پھرکوئی نئی وجہ بتا دی جاتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہماری حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے، چند بڑے پروجیکٹس پر کام کیا جا رہا ہے لیکن ان پروجیکٹس کو پایہ تکمیل تک پہنچنے میں ابھی بہت وقت درکار ہے اور فوری لوڈشیدنگ کو قابو کرنا بہت مشکل ہے۔ ہم کب تک لوڈشیڈنگ برداشت کریں گے؟ اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہمیں اپنی مدد آپ کے تحت ہی کام کرنا ہو گا۔ کوئی دوسرا ہماری مدد کو آئے یا نہ آئے ہمیں خود اس قابل ہونا ہوگا کہ ہم ہر مصیبت کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکیں۔ 

Sunday, November 28, 2010

لوڈ شیڈنگ اور اسکا حل

پاکستان اور انٹرنیٹ ویب سائیٹس

عید اور جانوروں کی خریدو فروخت

پاکستان میں فصلوں کی پیداوار میں حائل رکاوٹیں

زراعت ، بائیوٹیکنولوجی اور جدید تحقیق

بھوک کے خلاف متحد ہو جاﺅ

خوراک کے بحران سے کیسے بچا جائے؟

ڈیم ،سستی بجلی اورپانی کا ذخیرہ


واٹر فلٹریشن پلانٹس کی حالت ذار

گوگل کی کا میابیاں